اللہ کی پکڑ کا انتظار
جنوری 2002 کی ایک شام ساڑھے 5 بجے امریکی صدر بش اپنے کمرے میں اپنی پسندیدہ ٹیم کا رگبی میچ دیکھ رہا تھا اور ساتھ پرٹزل کھا رہا تھا۔ پریٹزل کو آپ میدے سے بنے ہوئے چپس سمجھ لیں جو امریکہ میں بطور سنیک بہت مقبول ہیں۔ کمرے میں اس وقت صدر بش کے ساتھ اس کے دو پالتو کتے تھے۔ اچانک صدر بش بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا۔ اس کے کتوں نے زور زور سے بھونکنا شروع کردیا اور فوراً اس کا عملہ کمرے میں آیا اور طبی امداد کا بندوبست کیا۔ چند لمحوں بعد بش کو ہوش آگیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق پری ٹزل کھاتے وقت کسی وجہ سے اس کا ایک انتہائی باریک ٹکڑا بش کی سانس کی نالی میں چلا گیا جس سے اس کی سانس معدوم ہوگئی اور دل نے پمپ کرنا بند کردیا جس سے وہ فوری طور پر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ ڈاکٹرز کے مطابق پریٹزل کا یہ ایک معمولی ذرہ تھا جس کا سائز چنے کی دال کے دانے سے بھی شاید کم ہوگا۔ یہ وہ وقت تھا جب نائن الیون کے بعد صدر بش نے افغانستان اور عراق پر چڑھائی کا پلان بنا رکھا تھا۔ یہ اللہ کی قدرت تھی کہ اس نے چنے کی دال سے بھی چھوٹے دانے سے دنیا کے طاقتور ترین شخص کو اس کی رعونت سمیت زمین پر گرا دیا اور...

Comments
Post a Comment